Posts

Understanding Oral Sex: The Risks and Realities

 Understanding Oral Sex: The Risks and Realities =============================================== Oral sex is a topic that often generates a mix of curiosity and concern. Many people wonder about its nature, safety, and the potential consequences associated with it. This article aims to provide a comprehensive understanding of oral sex, including its definition, physical risks, and the psychological and spiritual implications it may carry. What is Oral Sex? ----------------- Oral sex is defined as the act of using the mouth, lips, or tongue to stimulate a partner's genitalia. This can include kissing, licking, or sucking the private parts of one’s partner. While it may seem like a pleasurable activity, it is essential to recognize the potential risks involved. Physical Risks of Oral Sex -------------------------- The physical risks associated with oral sex can be categorized into various sexually transmitted infections (STIs). Understanding these risks is crucial for informed deci...

سبق آموز جذباتی کہانی

Image
میں 17 سال کا ہوا تو پھول بیچنے لگا، ایک دن چالیس سالہ امیر عورت مجھے بولی کیا تم میرے گھر کے نوکر بنو گے۔ میں خوشی خوشی مان گیا اور اس کے ساتھ چلا گیا۔ اس نے مجھے ایک خوبصورت سا لباس دیا اور بولی تم نے ڈیوٹی پر یہ لباس پہن کر آنا ہے۔  اگلے دن مالکن بولی کچن سے مٹھائی کا ٹوکرہ اٹھا کر لے آؤ۔ جب میں وہ ٹوکرہ لے کر آیا تو مالکن کے ساتھ بیٹھے سب مہمان میرے احترام میں اٹھ کر کھڑے ہو گئے۔ مجھے بڑی حیرت ہوئی کہ میں تو نوکر ہوں پھر مجھے اتنی عزت کیوں دیتے ہیں۔  اگلے دن بھی مالکن نے مجھے مٹھائی کا ٹوکرا لانے کو کہا۔ مجھے کچھ شک ہوا کہ مالکن مٹھائی کھلاتی کیوں نہیں۔ یوں ایک دن نظر بچا کر میں نے جوں ہی وہ ٹوکرہ کھول کر دیکھا تو قدموں تلے سے زمین نکل گئی کیوں کہ اس میں تو میرا۔۔۔ آگے پڑھنے کے لیئے پہلا کمنٹ دیکھیں

کون سے کاشتکار ’کسان کارڈ‘ کی رجسٹریشن کیلیے اہل ہیں

Image
لاہور سے جاری ایک بیان میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا کہ کاشتکار بھائیوں کیلئے کسان کارڈ کی رجسٹریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے، 5 لاکھ کاشتکاروں کو سالانہ 300 ارب روپے کے پیداواری قرضے دئیے جائیں گے۔ ہر کسان کو ایک فصل کیلئے ڈیڑھ لاکھ روپے تک آسان قرض دئیے جائیں گے جس سے کسان اپنی فصل کیلئے کھاد، بیج اور دیگر زرعی مداخل خرید سکے گا- ساڑھے 12 ایکڑ تک اراضی کی ملکیت رکھنے والے کسان کارڈ رجسٹریشن کے اہل ہوں گے۔ کسان کارڈ کیلئے زمین کا اراضی ریکارڈ سنٹر میں رجسٹرڈ ہونا ضروری ہے۔ کاشتکار کے اپنے شناختی کارڈ نمبر پر موبائل سم کا رجسٹرڈ ہونا لازم ہے- کاشتکار کے شناختی کارڈ کی نادرا ریکارڈ سے تصدیق کی جائیگی اور کاشتکار بلاسود قرضے کی آسان اقساط 6 ماہ میں واپس کرے گا۔ قرض کی ادائیگی کے بعد کاشتکار اگلی فصل کیلئے دوبارہ قرض حاصل کرنے کا اہل ہوگا

وزیر اعلیٰ مریم نواز کا پنجاب بھر کے 50 ہزار گھرانوں میں سولر سسٹم کی تقسیم کی منظوری

Image
پنجاب مفت سولر اسکیم 2024 پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں گھروں کو مفت سولر سسٹم تقسیم کرنے کا منصوبہ حتمی شکل دے دی ہے، جس کا ہدف وہ گھرانے ہیں جو ماہانہ 100 یونٹس تک بجلی استعمال کرتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے تمام اخراجات پورے کیے جائیں گے، اس پہل کا مقصد بجلی کے اخراجات کو کم کرنا اور قابل تجدید توانائی کے استعمال کو فروغ دینا ہے، جس کی تخمینہ لاگت 10 ارب روپے ہے۔ منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے کے لیے، بجلی چوری یا دھوکہ دہی میں ملوث گھرانوں کو اس پروگرام سے خارج کر دیا گیا ہے۔ اہل خاندانوں کی نشاندہی نیشنل ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن (این ٹی سی) کے ذریعے ڈیٹا کی تصدیق کے بعد کی جائے گی، اور فہرستیں تقسیم کی ہم آہنگی کے لیے پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کو بھیجی جائیں گی جو ضلعی انتظامیہ کے ذریعے عمل میں لائی جائے گی۔ وزیراعلیٰ پنجاب مفت سولر اسکیم 2024 کے فوائد لاگت کی بچت: اہل گھرانوں کے بجلی کے اخراجات کو کم کریں۔ ماحولیاتی اثرات: قابل تجدید توانائی کے استعمال کو فروغ دیں، جو ماحول کو سرسبز بنانے میں معاون ہے۔ مالی ریلیف: بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے درمیان کمزور خاندانوں کے لیے مالی...

سندھ حکومت نے ماہانہ 100 یونٹس استعمال کرنے والے صارفین کے لئے مفت بجلی کا اعلان کر دیا

Image
 سندھ کے وزیر توانائی ناصر حسین شاہ نے کراچی میں ماہانہ 100 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کے لیے حوصلہ افزا خبر سنا دی ہے۔ اس اقدام میں سولر پارکس اور منی گرڈ اسٹیشنوں کے ذریعے مفت بجلی فراہم کرنا شامل ہے۔ سندھ حکومت نے شمسی توانائی کے منصوبوں کے لیے 5 ارب روپے مختص کیے ہیں، 200,000 سولر پینل رعایتی نرخوں پر تقسیم کرنے کا منصوبہ ہے۔ صارفین لاگت کا صرف 20 فیصد برداشت کریں گے، جبکہ باقی 80 فیصد حکومت برداشت کرے گی۔ مزید برآں، کراچی سمیت سندھ بھر میں سولر پارکس اور منی گرڈ اسٹیشن قائم کیے جائیں گے۔ یہ اقدام کے الیکٹرک کی جانب سے سرکاری محکموں اور کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کی جانب سے ادا نہ کیے جانے والے واجبات کے حوالے سے انتباہات کے درمیان سامنے آیا ہے، جس کی وجہ سے ان کے لیے مالی دباؤ ہے۔ کے الیکٹرک اور پاور نیٹ ورک کی بحالی کو خطرہ ہے۔ شہر میں بجلی کی ممکنہ بندش کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔

پاک فوج کے زیر انتظام 50 سے زائد کاروبار کی لسٹ

Image
  پاک فوج کے ماتحت اداروں کی کاروباری منصوبوں کی پارلیمنٹ میں شیئر کی جانیوالی فہرست کی تفصیل کچھ یوں ہے۔ ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹیز(ڈی ایچ ایز) وزارتِ دفاع کی دستاویزات کے مطابق ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹیز کے انتظامی کنٹرول میں درج ذیل منصوبے ہیں:۔ ڈی ایچ اے کراچی ڈی ایچ اے لاہور ڈی ایچ اے ملتان ڈی ایچ اے بہاولپور ڈی ایچ اے گوجرانوالہ ڈی ایچ اے اسلام آباد،راولپنڈی ڈی ایچ اے پشاور ڈی ایچ اے کوئٹہ آرمی ویلفیئرٹرسٹ دستاویزات کے مطابق آرمی ویلفیئرٹرسٹ کے زیرِ انتظام20کے قریب کاروباری منصوبے چل رہے ہیں،جن کی تفصیل کچھ یوں ہے۔ اسٹڈفارم،پاکپتن اسٹڈ فارم،اوکاڑہ آرمی ویلفیئرشوگرملز،بدین عسکری پراجیکٹ(شواینڈوُولن)،لاہور آرمی ویلفیئرمیس اینڈ بلیولاگون ریسٹورینٹ،راولپنڈی عسکری جنرل انشورنس کمپنی لمیٹڈ،راولپنڈی عسکری ایوی ایشن سروسز،راولپنڈی مال پاکستان لمیٹڈ،کراچی عسکری گارڈز پرائیویٹ لمیٹڈ،راولپنڈی عسکری فیولز(سی این جی)،راولپنڈی عسکری سیڈز،اوکاڑہ عسکری انٹرپرائزز،راولپنڈی فوجی سیکیورٹی سروسز،راولپنڈی عسکری اپیرل،لاہور عسکری لگون،فیصل آباد رئیل اسٹیٹ کاروبار جوتین ہاؤسنگ اسکیمز پر مشتمل...